بنگلورو،6/فروری(ایس او نیوز)شہریت قانون کے خلاف ملک بھر میں اور خاص طور پر کرناٹک بھر میں جاری احتجاجات برسر اقتدار طبقہ کے لئے ناقابل برداشت ہوتے جا رہے ہیں۔ حال ہی میں یوم جمہوریہ کے موقع پر بیدر کے شاہین تعلیمی اداروں میں اس متنازع قانون کی مخالفت میں پیش کئے گئے ایک ڈرامے کو بنیاد بنا کرغداری کا مقدمہ درج کرنے کا قدم اٹھا کر حکومت کی طرف سے یہ پیغام واضح طور پر دے دیا گیا ہے کہ شہریت قانون کے خلاف احتجاج کو کچلنے کے لئے وہ کسی بھی ہتھ کنڈے کا استعمال کر سکتی ہے۔
شاہین تعلیمی ادارو ں کے خلاف غداری کے مقدمہ کے ساتھ ساتھ ایک استانی اور ایک 9سالہ طالبہ کی بیوہ ماں کو پولس نے غداری کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ ان دونوں کو رہا کرنے کے لئے مختلف حلقوں سے گزارشات کے باوجود پولس اس معاملہ میں نرم روی اختیار کرنے کے موقف میں نظر نہیں آ رہی ہے۔ اس بات سے پوری طرح واقف ہوتے ہوئے بھی کہ چھوٹے بچوں سے والدین کی منظوری کے بغیر کسی بھی معاملے میں پوچھ گچھ کرنا قانون کی صریح خلاف ورزی ہے پولس کی طرف سے چہارشنبہ کے روزپانچویں بار ان معصوموں سے پوچھ گچھ جاری رکھی گئی۔باوثوق ذرائع سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ریاست کی بی جے پی حکومت کی طرف سے اعلیٰ پولس افسروں پر شدید دباؤ ہے کہ شاہین تعلیمی اداروں کے معاملے میں جو کارروائی کی گئی ہے اس میں کسی بھی طرح کی نرمی نہ اپنائی جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ ریاست بھر میں شہریت قانون کے خلاف جس طرح کے احتجاجات جاری ہیں ان کو کمزور کرنے کے لئے پولس حکام پر یہ دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ پہلے تو ان احتجاجات کے لئے اجازت دینے کا سلسلہ بند کیا جائے اور اگر اجازت کے لئے منتظمین اصرار کریں تو ا ن سے ضمانت کے طور پر اتنی بڑی رقم طلب کی جائے کہ وہ اجازت طلب نہ کر سکیں۔ کہا جاتا ہے کہ ریاستی حکومت کی طر ف سے پولس حکام کو یہ بھی سخت ہدایت دی گئی ہے کہ ان احتجاجات میں اگر کوئی تعلیمی ادارہ راست طور پر شامل ہو رہا ہے تو اس کے خلاف شاہین کے طرز پر کارروائی کی جائے۔ ساتھ ہی متعلقہ ادارے سے اگر طلباء شامل ہو رہے ہیں تو ان کی احتجاج کے دوران نشاندہی کر کے ان پر غداری کا مقدمہ کیا جائے۔ کمسن بچوں کو اگر شہریت قانو ن کے خلاف احتجاج کا حصہ بنایا جا رہا ہے تو ان کے والدین کے خلاف غداری کامقدمہ درج کر کے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔
ریاستی پولس پر بی جے پی کے بڑے رہنماؤں اور چند ذمہ دار وزراء کی طرف سے اس طرح کے دباؤ کوعوامی حلقوں میں تشویش کا باعث مانا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ عوام کی جمہوری آواز کو کچلنے کے لئے حکومت اگر اس حد تک آسکتی ہے تو اس بات سے اندازہ لگالینا چاہئے کہ حکومت جمہوریت اور آزادی اظہار کے حق کا گلا گھونٹنے پر اتر آئی ہے۔یہ اندیشے ظاہر کئے جا رہے ہیں کہ شہریت قانون کے خلاف احتجاج کو کمزور کرنے کی کوشش میں آنے والے دنوں میں ممکن ہے کہ پولس کو کرناٹک کے دیگر بڑے تعلیمی اداروں اور ان میں زیر تعلیم طلباء کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ شدید سیاسی دباؤ کی وجہ سے سہمے ہوئے پولس افسران اس طرح کی کارروائی کرنے کے لئے مجبور نظر آرہے ہیں۔ شہریت قانون کے خلاف تحریک چلانے میں لگے اداروں نے پولس کے اس رویہ پر تشویش ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ اگر اسی طرح کا رویہ اپنا یاگیا تو مجبوراً اس کے خلاف تحریک شروع کرنی پڑ سکتی ہے۔